Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
Seller: Arshia Publication
| ISBN: | 93-6691-658-9 |
|---|---|
| Author: | Kishwar Naheed |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2026 |
| Genre: | Literary Fiction |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
’دلت کتھا‘ مراٹھی دلت ادب کی منتخب کہانیوں کا اردو ترجمہ ہے، جسے وقار قادری نے اردو قارئین تک پہنچایا ہے۔ یہ مجموعہ مراٹھی دلت افسانے کی اس روایت سے متعارف کراتا ہے جس نے ذات پات، سماجی امتیاز اور محرومی کے تجربات کو محض موضوع کے طور پر نہیں، بلکہ زندگی کی ایک تلخ اور براہِ راست حقیقت کے طور پر ادب کا حصہ بنایا۔ مراٹھی دلت افسانے کی اپنی ایک مخصوص حسیت ہے۔ ان کہانیوں میں صدیوں سے جاری سماجی تفریق، ذات پات کی بنیاد پر تحقیر، محنت، غربت اور محرومی کے تجربات کے ساتھ خودداری، مزاحمت اور انسانی وقار کی بنیادی خواہش بھی نمایاں ہے۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ یہ حاشیے پر دھکیلے گئے انسان کی زندگی کو محض باہر سے دیکھنے کے بجائے اس کے اندر سے سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی لیے ان کہانیوں کا لہجہ کہیں تلخ، کہیں احتجاجی، کہیں کرب انگیز اور کہیں نہایت سادہ و بے ساختہ دکھائی دیتا ہے، مگر زندگی کے تجربے کی صداقت ہر جگہ قائم رہتی ہے۔ وقار قادری نے ان کہانیوں کو اردو میں منتقل کرکے مراٹھی دلت ادب اور اردو قاری کے درمیان ایک اہم ادبی پل قائم کیا ہے۔ یہ ترجمہ محض ایک زبان سے دوسری زبان میں متن کی منتقلی نہیں، بلکہ ایک مخصوص سماجی اور تہذیبی تجربے کو دوسری زبان کے قارئین تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ ’دلت کتھا‘ ہندوستانی ادب میں دلت تحریر کی روایت، اس کی سماجی معنویت اور اس کے فکری و ادبی پس منظر کو سمجھنے والے قارئین کے لیے ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کے ترجمے پر وقار قادری کو ساہتیہ اکادمی کا ترجمہ انعام بھی حاصل ہوا۔
’دلت کتھا‘ مراٹھی دلت ادب کی منتخب کہانیوں کا اردو ترجمہ ہے، جسے وقار قادری نے اردو قارئین تک پہنچایا ہے۔ یہ مجموعہ مراٹھی دلت افسانے کی اس روایت سے متعارف کراتا ہے جس نے ذات پات، سماجی امتیاز اور محرومی کے تجربات کو محض موضوع کے طور پر نہیں، بلکہ زندگی کی ایک تلخ اور براہِ راست حقیقت کے طور پر ادب کا حصہ بنایا۔ مراٹھی دلت افسانے کی اپنی ایک مخصوص حسیت ہے۔ ان کہانیوں میں صدیوں سے جاری سماجی تفریق، ذات پات کی بنیاد پر تحقیر، محنت، غربت اور محرومی کے تجربات کے ساتھ خودداری، مزاحمت اور انسانی وقار کی بنیادی خواہش بھی نمایاں ہے۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ یہ حاشیے پر دھکیلے گئے انسان کی زندگی کو محض باہر سے دیکھنے کے بجائے اس کے اندر سے سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی لیے ان کہانیوں کا لہجہ کہیں تلخ، کہیں احتجاجی، کہیں کرب انگیز اور کہیں نہایت سادہ و بے ساختہ دکھائی دیتا ہے، مگر زندگی کے تجربے کی صداقت ہر جگہ قائم رہتی ہے۔ وقار قادری نے ان کہانیوں کو اردو میں منتقل کرکے مراٹھی دلت ادب اور اردو قاری کے درمیان ایک اہم ادبی پل قائم کیا ہے۔ یہ ترجمہ محض ایک زبان سے دوسری زبان میں متن کی منتقلی نہیں، بلکہ ایک مخصوص سماجی اور تہذیبی تجربے کو دوسری زبان کے قارئین تک پہنچانے کی سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ ’دلت کتھا‘ ہندوستانی ادب میں دلت تحریر کی روایت، اس کی سماجی معنویت اور اس کے فکری و ادبی پس منظر کو سمجھنے والے قارئین کے لیے ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کے ترجمے پر وقار قادری کو ساہتیہ اکادمی کا ترجمہ انعام بھی حاصل ہوا۔