Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
Seller: Arshia Publication
| ISBN: | 93-6691-283-4 |
|---|---|
| Author: | Kishwar Naheed |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2026 |
| Genre: | Literary Fiction |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
’عورت: خواب اور خاک کے درمیان‘ کشور ناہید کی اہم نثری کتابوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں عورت کے وجود، اس کی سماجی حیثیت، خواہشات، محرومیوں اور آزادی کے سوالات کو ایک حساس اور بے باک نظر سے دیکھا گیا ہے۔ کشور ناہید کا نسائی شعور محض عورت کے مسائل کی فہرست پیش نہیں کرتا، بلکہ ان سماجی رویّوں اور اقدار پر بھی سوال اٹھاتا ہے جو عورت کی زندگی، اس کی شناخت اور اس کے اختیار کی حدود متعین کرتے ہیں۔ اس کتاب میں عورت کبھی خواب کی صورت میں اپنے لیے ایک مختلف زندگی کا تصور کرتی ہے اور کبھی خاک کی حقیقتوں سے دوچار ہوتی ہے۔ خواہش اور مجبوری، خود مختاری اور سماجی بندش، محبت اور رشتوں کی پیچیدگی، جسم اور روح، شناخت اور معاشرتی توقعات کے درمیان یہی کشمکش کتاب کے بنیادی فکری مباحث میں شامل ہے۔ کشور ناہید ان موضوعات کو محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اپنے مشاہدے، تجربے اور ادبی بصیرت سے انہیں زندگی کے ٹھوس حوالوں سے جوڑتی ہیں۔ کشور ناہید کا اسلوب بے باک ہونے کے ساتھ ساتھ فکری اور تجزیاتی ہے۔ وہ عورت کو محض مظلوم کردار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کی خواہش، مزاحمت، خود آگہی اور اپنے وجود پر حقِ اختیار کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’عورت: خواب اور خاک کے درمیان‘ کو اردو میں نسائی فکر اور عورت کے سماجی وجود پر ہونے والی اہم تحریروں کے تناظر میں پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب اردو ادب میں عورت کے تجربے اور اس کے بدلتے ہوئے شعور کو سمجھنے کے خواہش مند قارئین کے لیے ایک اہم مطالعہ ہے۔
’عورت: خواب اور خاک کے درمیان‘ کشور ناہید کی اہم نثری کتابوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں عورت کے وجود، اس کی سماجی حیثیت، خواہشات، محرومیوں اور آزادی کے سوالات کو ایک حساس اور بے باک نظر سے دیکھا گیا ہے۔ کشور ناہید کا نسائی شعور محض عورت کے مسائل کی فہرست پیش نہیں کرتا، بلکہ ان سماجی رویّوں اور اقدار پر بھی سوال اٹھاتا ہے جو عورت کی زندگی، اس کی شناخت اور اس کے اختیار کی حدود متعین کرتے ہیں۔ اس کتاب میں عورت کبھی خواب کی صورت میں اپنے لیے ایک مختلف زندگی کا تصور کرتی ہے اور کبھی خاک کی حقیقتوں سے دوچار ہوتی ہے۔ خواہش اور مجبوری، خود مختاری اور سماجی بندش، محبت اور رشتوں کی پیچیدگی، جسم اور روح، شناخت اور معاشرتی توقعات کے درمیان یہی کشمکش کتاب کے بنیادی فکری مباحث میں شامل ہے۔ کشور ناہید ان موضوعات کو محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اپنے مشاہدے، تجربے اور ادبی بصیرت سے انہیں زندگی کے ٹھوس حوالوں سے جوڑتی ہیں۔ کشور ناہید کا اسلوب بے باک ہونے کے ساتھ ساتھ فکری اور تجزیاتی ہے۔ وہ عورت کو محض مظلوم کردار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کی خواہش، مزاحمت، خود آگہی اور اپنے وجود پر حقِ اختیار کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’عورت: خواب اور خاک کے درمیان‘ کو اردو میں نسائی فکر اور عورت کے سماجی وجود پر ہونے والی اہم تحریروں کے تناظر میں پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب اردو ادب میں عورت کے تجربے اور اس کے بدلتے ہوئے شعور کو سمجھنے کے خواہش مند قارئین کے لیے ایک اہم مطالعہ ہے۔