Sargoshi
Hamida Bano₹500
Front cover · 1 of 2
Seller: Arshia Publication
| Item Weight: | 228 Grams |
|---|---|
| ISBN: | 9788196566388 |
| Author: | Ajmal Kamal |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 182 |
| Dimensions: | 21*14 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2015 |
| Genre: | Criticism |
اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے مصنف: اجمل کمال اجمل کمال کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے‘‘ اردو ادب میں رائج تصورات، مستحکم ادبی رویّوں اور مروجہ تنقیدی بیانیوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کتاب میں مصنف ادب اور زبان سے متعلق بعض ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جن پر عموماً ایک طے شدہ نقطۂ نظر کے تحت گفتگو کی جاتی رہی ہے۔ اجمل کمال کا تنقیدی رویّہ روایتی ادبی فیصلوں کو بلا تامل قبول کرنے کے بجائے ان کا جائزہ لینے اور ان پر سوال قائم کرنے کا رویّہ ہے۔ وہ ادبی شخصیات، ان کے افکار اور اردو تنقید میں قائم بعض مسلمہ تصورات کو مکالمے اور استدلال کے ذریعے پرکھتے ہیں۔ اس عمل میں ان کا انداز نہ تو محض اختلاف برائے اختلاف کا ہے اور نہ ہی کسی مروجہ نظریے کی غیر مشروط تائید کا؛ بلکہ وہ قاری کو خود سوچنے، سوال کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی سادہ، رواں اور مکالماتی نثر ہے، جو تنقیدی مباحث کو بوجھل ہونے سے بچاتی ہے۔ ’’اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے‘‘ ان قارئین کے لیے ایک اہم کتاب ہے جو اردو ادب کو صرف اس کے مانوس حوالوں سے نہیں بلکہ نئے سوالات، مختلف زاویۂ نظر اور آزادانہ غور و فکر کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے مصنف: اجمل کمال اجمل کمال کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے‘‘ اردو ادب میں رائج تصورات، مستحکم ادبی رویّوں اور مروجہ تنقیدی بیانیوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کتاب میں مصنف ادب اور زبان سے متعلق بعض ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جن پر عموماً ایک طے شدہ نقطۂ نظر کے تحت گفتگو کی جاتی رہی ہے۔ اجمل کمال کا تنقیدی رویّہ روایتی ادبی فیصلوں کو بلا تامل قبول کرنے کے بجائے ان کا جائزہ لینے اور ان پر سوال قائم کرنے کا رویّہ ہے۔ وہ ادبی شخصیات، ان کے افکار اور اردو تنقید میں قائم بعض مسلمہ تصورات کو مکالمے اور استدلال کے ذریعے پرکھتے ہیں۔ اس عمل میں ان کا انداز نہ تو محض اختلاف برائے اختلاف کا ہے اور نہ ہی کسی مروجہ نظریے کی غیر مشروط تائید کا؛ بلکہ وہ قاری کو خود سوچنے، سوال کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی سادہ، رواں اور مکالماتی نثر ہے، جو تنقیدی مباحث کو بوجھل ہونے سے بچاتی ہے۔ ’’اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے‘‘ ان قارئین کے لیے ایک اہم کتاب ہے جو اردو ادب کو صرف اس کے مانوس حوالوں سے نہیں بلکہ نئے سوالات، مختلف زاویۂ نظر اور آزادانہ غور و فکر کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔