Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
by Baig Ehsaas
No reviews yetSeller: Arshia Publication
| ISBN: | 978-9381029091 |
|---|---|
| Author: | Baig Ehsaas |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2024 |
| Genre: | Novels |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
بیگ احساس کی افسانہ نگاری معاصر ہندوستانی مسلم متوسط طبقے کی زندگی، اس کے داخلی انتشار اور بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے کی ایک گہری اور حساس ترجمان ہے۔ ان کے افسانوں میں روایت اور جدیدیت کی کشمکش، شناخت کا بحران، معاشی دباؤ، نقلِ مکانی، خلیجی ممالک کی طرف ہجرت اور تیزی سے بدلتی ہوئی اقدار کے اثرات نہایت باریک بینی سے سامنے آتے ہیں۔ ان کے کردار بہتر زندگی کی تلاش میں مسلسل سرگرداں رہتے ہیں، مگر آسودگی کی یہ جستجو اکثر انہیں ایسی بےچینی سے دوچار کر دیتی ہے جس سے نجات آسان نہیں ہوتی۔ بیگ احساس اپنے افسانوں میں سماجی حقیقت نگاری کو علامتی اور تمثیلی پیرایے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کرتے ہیں کہ ہر کہانی اپنے ظاہری بیانیے سے آگے بڑھ کر ایک وسیع انسانی اور تہذیبی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف کے مسلم معاشرے کی تہذیبی فضا، وہاں کے لوگوں کی نفسیاتی کیفیات اور خلیجی ممالک میں مقیم افراد سے ان کے جذباتی رشتے ان کے افسانوں کا نمایاں حوالہ ہیں۔ بیگ احساس کا شمار معاصر اُردو افسانے کی اہم آوازوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے فنی ضبط، نفسیاتی بصیرت اور سماجی شعور کے باعث سنجیدہ قارئین اور ناقدین دونوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ یہ مجموعہ اُن قارئین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو معاصر اُردو افسانے میں بدلتے ہوئے معاشرے، انسانی نفسیات اور تہذیبی مسائل کے فنی اظہار کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
بیگ احساس کی افسانہ نگاری معاصر ہندوستانی مسلم متوسط طبقے کی زندگی، اس کے داخلی انتشار اور بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے کی ایک گہری اور حساس ترجمان ہے۔ ان کے افسانوں میں روایت اور جدیدیت کی کشمکش، شناخت کا بحران، معاشی دباؤ، نقلِ مکانی، خلیجی ممالک کی طرف ہجرت اور تیزی سے بدلتی ہوئی اقدار کے اثرات نہایت باریک بینی سے سامنے آتے ہیں۔ ان کے کردار بہتر زندگی کی تلاش میں مسلسل سرگرداں رہتے ہیں، مگر آسودگی کی یہ جستجو اکثر انہیں ایسی بےچینی سے دوچار کر دیتی ہے جس سے نجات آسان نہیں ہوتی۔ بیگ احساس اپنے افسانوں میں سماجی حقیقت نگاری کو علامتی اور تمثیلی پیرایے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کرتے ہیں کہ ہر کہانی اپنے ظاہری بیانیے سے آگے بڑھ کر ایک وسیع انسانی اور تہذیبی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف کے مسلم معاشرے کی تہذیبی فضا، وہاں کے لوگوں کی نفسیاتی کیفیات اور خلیجی ممالک میں مقیم افراد سے ان کے جذباتی رشتے ان کے افسانوں کا نمایاں حوالہ ہیں۔ بیگ احساس کا شمار معاصر اُردو افسانے کی اہم آوازوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے فنی ضبط، نفسیاتی بصیرت اور سماجی شعور کے باعث سنجیدہ قارئین اور ناقدین دونوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ یہ مجموعہ اُن قارئین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو معاصر اُردو افسانے میں بدلتے ہوئے معاشرے، انسانی نفسیات اور تہذیبی مسائل کے فنی اظہار کو سمجھنا چاہتے ہیں۔