Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
Seller: Arshia Publication
| ISBN: | 93-6691-513-2 |
|---|---|
| Author: | Tahar Ban Jelloun |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2026 |
| Genre: | Literary Fiction |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
"ye basarat-kush andhere یہ بصارت کش اندھیرے معروف مراکشی فکشن نگار طاہر بن جلون کا ایک اہم ناول ہے، جس کا اردو ترجمہ ارجمند آرا نے نہایت سلیقے اور ادبی حسن کے ساتھ کیا ہے۔ یہ ناول اپنی فکری گہرائی، تاریخی پس منظر اور انسانی تجربے کی شدت کے باعث عالمی ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کہانی میں ایک ایسے فرد کی زندگی کو مرکز بنایا گیا ہے جو ظلم، جبر اور استحصال کے ایک تاریک اور پیچیدہ نظام میں اپنی شناخت، وجود اور بقا کی تلاش کرتا ہے۔ ناول میں سیاسی تشدد، قید و بند، انسانی بے بسی اور یادداشت کے کرب کو نہایت علامتی اور درد انگیز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ طاہر بن جلون کا اسلوب نہایت شعری، علامتی اور تہہ دار ہے، جس میں حقیقت اور تخیّل ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک گہری ادبی فضا پیدا کرتے ہیں۔ یہ ناول قاری کو صرف ایک کہانی نہیں سناتا بلکہ اسے انسانی تاریخ کے ایک تاریک تجربے میں شامل کر لیتا ہے۔ ارجمند آرا کا اردو ترجمہ نہایت رواں اور مؤثر ہے، جس نے اصل متن کی فکری شدت اور ادبی لطافت کو بڑی خوب صورتی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ جدید عالمی ادب، سیاسی ناولوں، اور انسانی تجربے پر مبنی فکشن میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ بصارت کش اندھیرے ایک نہایت اہم اور یادگار مطالعہ ہے۔"
"ye basarat-kush andhere یہ بصارت کش اندھیرے معروف مراکشی فکشن نگار طاہر بن جلون کا ایک اہم ناول ہے، جس کا اردو ترجمہ ارجمند آرا نے نہایت سلیقے اور ادبی حسن کے ساتھ کیا ہے۔ یہ ناول اپنی فکری گہرائی، تاریخی پس منظر اور انسانی تجربے کی شدت کے باعث عالمی ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کہانی میں ایک ایسے فرد کی زندگی کو مرکز بنایا گیا ہے جو ظلم، جبر اور استحصال کے ایک تاریک اور پیچیدہ نظام میں اپنی شناخت، وجود اور بقا کی تلاش کرتا ہے۔ ناول میں سیاسی تشدد، قید و بند، انسانی بے بسی اور یادداشت کے کرب کو نہایت علامتی اور درد انگیز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ طاہر بن جلون کا اسلوب نہایت شعری، علامتی اور تہہ دار ہے، جس میں حقیقت اور تخیّل ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک گہری ادبی فضا پیدا کرتے ہیں۔ یہ ناول قاری کو صرف ایک کہانی نہیں سناتا بلکہ اسے انسانی تاریخ کے ایک تاریک تجربے میں شامل کر لیتا ہے۔ ارجمند آرا کا اردو ترجمہ نہایت رواں اور مؤثر ہے، جس نے اصل متن کی فکری شدت اور ادبی لطافت کو بڑی خوب صورتی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ جدید عالمی ادب، سیاسی ناولوں، اور انسانی تجربے پر مبنی فکشن میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ بصارت کش اندھیرے ایک نہایت اہم اور یادگار مطالعہ ہے۔"