Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
Seller: Arshia Publication
| ISBN: | 81-19533-682 |
|---|---|
| Author: | Nasir Abbas Nayyar |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2026 |
| Genre: | Criticism |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
"Usko Ek Shakhs Samajhna To Munasib Hi Nahin اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں معروف نقاد، محقق اور دانشور ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی ایک اہم تنقیدی کتاب ہے، جو اردو ادب کے عظیم اور منفرد شاعر میراجی کی نظم اور نثر کے تفصیلی مطالعات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب میراجی کی تخلیقی شخصیت، ان کے فکری نظام اور جدید اردو ادب میں ان کے غیر معمولی کردار کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ اور عمیق کوشش پیش کرتی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے اس کتاب میں میراجی کی نظموں اور نثری تحریروں کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے۔ میراجی کے ہاں علامت، جنس، تنہائی، لاشعور، تہذیب، اساطیر اور انسانی نفسیات جیسے موضوعات کس طرح اظہار پاتے ہیں، اس کتاب میں ان تمام جہات پر مدلّل اور بصیرت افروز گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ میراجی نے جدید اردو نظم کو نئی فکری اور جمالیاتی سمتیں عطا کیں۔ یہ کتاب محض تنقیدی مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ میراجی کے فن کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کی سنجیدہ کاوش ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کا اسلوب علمی ہونے کے باوجود نہایت رواں، شگفتہ اور دلنشیں ہے، جس کی وجہ سے پیچیدہ ادبی مباحث بھی قاری کے لیے قابلِ فہم بن جاتے ہیں۔ میراجی، جدید اردو نظم، ادبی تنقید اور جدیدیت کے مباحث میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے یہ کتاب ایک اہم اور ناگزیر مطالعہ ہے۔"
"Usko Ek Shakhs Samajhna To Munasib Hi Nahin اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں معروف نقاد، محقق اور دانشور ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی ایک اہم تنقیدی کتاب ہے، جو اردو ادب کے عظیم اور منفرد شاعر میراجی کی نظم اور نثر کے تفصیلی مطالعات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب میراجی کی تخلیقی شخصیت، ان کے فکری نظام اور جدید اردو ادب میں ان کے غیر معمولی کردار کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ اور عمیق کوشش پیش کرتی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے اس کتاب میں میراجی کی نظموں اور نثری تحریروں کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے۔ میراجی کے ہاں علامت، جنس، تنہائی، لاشعور، تہذیب، اساطیر اور انسانی نفسیات جیسے موضوعات کس طرح اظہار پاتے ہیں، اس کتاب میں ان تمام جہات پر مدلّل اور بصیرت افروز گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ میراجی نے جدید اردو نظم کو نئی فکری اور جمالیاتی سمتیں عطا کیں۔ یہ کتاب محض تنقیدی مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ میراجی کے فن کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کی سنجیدہ کاوش ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کا اسلوب علمی ہونے کے باوجود نہایت رواں، شگفتہ اور دلنشیں ہے، جس کی وجہ سے پیچیدہ ادبی مباحث بھی قاری کے لیے قابلِ فہم بن جاتے ہیں۔ میراجی، جدید اردو نظم، ادبی تنقید اور جدیدیت کے مباحث میں دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے یہ کتاب ایک اہم اور ناگزیر مطالعہ ہے۔"