Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
by Nayyar Masud
No reviews yetSeller: Arshia Publication
| ISBN: | 978-93-81029-37-4 |
|---|---|
| Author: | Nayyar Masud |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2026 |
| Genre: | Literary Fiction |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
"Tauus chaman ki maina طاؤس چمن کی مینا اردو کے ممتاز افسانہ نگار نیّر مسعود کا ایک نہایت اہم افسانوی مجموعہ ہے، جو اپنی منفرد فضا، خواب ناک اسلوب اور تہہ دار بیانیے کی وجہ سے جدید اردو افسانے میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ کتاب اپنے فنی معیار اور تخلیقی انفرادیت کے باعث اردو ادب کے سنجیدہ قارئین میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ اس مجموعے کو 2001 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور 2007 میں سراسوتی سمان سے بھی نوازا گیا، جو اس کی ادبی اہمیت اور وقعت کا ایک بڑا اعتراف ہے۔ نیّر مسعود کے افسانوں میں ایک پراسرار اور نیم روشن فضا پائی جاتی ہے، جہاں یادداشت، خواب، تاریخ اور حقیقت ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ طاؤس چمن کی مینا کے افسانے کسی سیدھی سادی کہانی کے بجائے ایک داخلی تجربہ فراہم کرتے ہیں، جس میں قاری رفتہ رفتہ ایک علامتی اور تہذیبی جہان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کتاب کا اسلوب نہایت شگفتہ، نرم اور جمالیاتی ہے، لیکن اسی نرمی کے اندر ایک گہری فکری پیچیدگی بھی موجود ہے۔ نیّر مسعود نے روزمرہ زندگی کے بظاہر سادہ مناظر کو بھی ایک پراسرار اور معنویت سے بھرپور کیفیت میں ڈھال دیا ہے۔ جدید اردو افسانہ، علامتی فکشن، تہذیبی مطالعات اور سنجیدہ ادبی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے “طاؤس چمن کی مینا” ایک نہایت اہم اور لازمی مطالعہ ہے۔"
"Tauus chaman ki maina طاؤس چمن کی مینا اردو کے ممتاز افسانہ نگار نیّر مسعود کا ایک نہایت اہم افسانوی مجموعہ ہے، جو اپنی منفرد فضا، خواب ناک اسلوب اور تہہ دار بیانیے کی وجہ سے جدید اردو افسانے میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ کتاب اپنے فنی معیار اور تخلیقی انفرادیت کے باعث اردو ادب کے سنجیدہ قارئین میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ اس مجموعے کو 2001 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور 2007 میں سراسوتی سمان سے بھی نوازا گیا، جو اس کی ادبی اہمیت اور وقعت کا ایک بڑا اعتراف ہے۔ نیّر مسعود کے افسانوں میں ایک پراسرار اور نیم روشن فضا پائی جاتی ہے، جہاں یادداشت، خواب، تاریخ اور حقیقت ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ طاؤس چمن کی مینا کے افسانے کسی سیدھی سادی کہانی کے بجائے ایک داخلی تجربہ فراہم کرتے ہیں، جس میں قاری رفتہ رفتہ ایک علامتی اور تہذیبی جہان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کتاب کا اسلوب نہایت شگفتہ، نرم اور جمالیاتی ہے، لیکن اسی نرمی کے اندر ایک گہری فکری پیچیدگی بھی موجود ہے۔ نیّر مسعود نے روزمرہ زندگی کے بظاہر سادہ مناظر کو بھی ایک پراسرار اور معنویت سے بھرپور کیفیت میں ڈھال دیا ہے۔ جدید اردو افسانہ، علامتی فکشن، تہذیبی مطالعات اور سنجیدہ ادبی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے “طاؤس چمن کی مینا” ایک نہایت اہم اور لازمی مطالعہ ہے۔"