Aawara Bagule
Fatima Hasan₹239₹29920% off
Front cover · 1 of 2
Seller: Arshia Publication
| Item Weight: | 119 Grams |
|---|---|
| ISBN: | 9366910432 |
| Author: | Munshi Premchand |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 83 |
| Dimensions: | 21.5*14.2 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 1980 |
| Genre: | Classic & Literary Fiction |
سوزِ وطن مصنف: پریم چند (نواب رائے) ’’سوزِ وطن‘‘ اردو کے نامور افسانہ نگار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے، جو 1908ء میں نواب رائے کے قلمی نام سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ہندوستان کی قومی زندگی، غلامی کے خلاف مزاحمت اور آزادی کے جذبے کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس میں شامل کہانیوں کے ذریعے پریم چند نے وطن سے محبت، قومی خودمختاری، ایثار اور قربانی جیسے موضوعات کو اپنے افسانوی اسلوب میں پیش کیا ہے۔ اس مجموعے میں پانچ کہانیاں شامل ہیں: ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘، ’’شیخ مخمور‘‘، ’’یہی میرا وطن ہے‘‘، ’’صلۂ ماتم‘‘ اور ’’عشقِ دنیا اور حبِ وطن‘‘۔ ان کہانیوں میں حب الوطنی کا جذبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پریم چند نے اپنے کرداروں اور واقعات کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ وطن سے وابستگی محض ایک جذباتی تعلق نہیں بلکہ اس کے لیے قربانی دینے اور اپنی ذمے داریوں کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔ ’’سوزِ وطن‘‘ کی اشاعت کے بعد انگریز حکومت نے اسے باغیانہ اور حکومت مخالف تحریر قرار دے کر ضبط کر لیا۔ اس واقعے نے پریم چند کی ادبی زندگی کا رخ بھی بدل دیا۔ اس کے بعد انہوں نے نواب رائے کے بجائے پریم چند کے نام سے لکھنا شروع کیا۔ اس اعتبار سے یہ مجموعہ نہ صرف ان کے ابتدائی ادبی سفر کی اہم کڑی ہے بلکہ اردو افسانے کی تاریخ میں بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پریم چند کے ابتدائی افسانوی تجربات، ان کے قومی شعور اور اردو افسانے کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ’’سوزِ وطن‘‘ ایک اہم کتاب ہے۔
سوزِ وطن مصنف: پریم چند (نواب رائے) ’’سوزِ وطن‘‘ اردو کے نامور افسانہ نگار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے، جو 1908ء میں نواب رائے کے قلمی نام سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ہندوستان کی قومی زندگی، غلامی کے خلاف مزاحمت اور آزادی کے جذبے کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس میں شامل کہانیوں کے ذریعے پریم چند نے وطن سے محبت، قومی خودمختاری، ایثار اور قربانی جیسے موضوعات کو اپنے افسانوی اسلوب میں پیش کیا ہے۔ اس مجموعے میں پانچ کہانیاں شامل ہیں: ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘، ’’شیخ مخمور‘‘، ’’یہی میرا وطن ہے‘‘، ’’صلۂ ماتم‘‘ اور ’’عشقِ دنیا اور حبِ وطن‘‘۔ ان کہانیوں میں حب الوطنی کا جذبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پریم چند نے اپنے کرداروں اور واقعات کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ وطن سے وابستگی محض ایک جذباتی تعلق نہیں بلکہ اس کے لیے قربانی دینے اور اپنی ذمے داریوں کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔ ’’سوزِ وطن‘‘ کی اشاعت کے بعد انگریز حکومت نے اسے باغیانہ اور حکومت مخالف تحریر قرار دے کر ضبط کر لیا۔ اس واقعے نے پریم چند کی ادبی زندگی کا رخ بھی بدل دیا۔ اس کے بعد انہوں نے نواب رائے کے بجائے پریم چند کے نام سے لکھنا شروع کیا۔ اس اعتبار سے یہ مجموعہ نہ صرف ان کے ابتدائی ادبی سفر کی اہم کڑی ہے بلکہ اردو افسانے کی تاریخ میں بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پریم چند کے ابتدائی افسانوی تجربات، ان کے قومی شعور اور اردو افسانے کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ’’سوزِ وطن‘‘ ایک اہم کتاب ہے۔