Aawara Bagule
Fatima Hasan₹239₹29920% off
Front cover · 1 of 2
Seller: Arshia Publication
| Item Weight: | 157 Grams |
|---|---|
| ISBN: | 9366910092 |
| Author: | Gabriel Garcia Marquez |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 128 |
| Dimensions: | 21.5*14 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2024 |
| Genre: | Novels |
ملتے ہیں اگست میں مصنف: گیبریل گارسیا مارکیز مترجم: انعام ندیم ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ نوبیل انعام یافتہ کولمبیائی ناول نگار گیبریل گارسیا مارکیز کا آخری ناول ہے، جو ان کی وفات کے دس برس بعد 2024ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ یہ ناول مارکیز کی تخلیقی زندگی کا ایک اہم اور غیر معمولی اضافہ ہے، جس میں محبت، تنہائی، خواہش، ازدواجی زندگی اور عورت کی داخلی کیفیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول کی مرکزی کردار آنا مگدالینا باخ ہر سال اگست کے مہینے میں ایک جزیرے کا سفر کرتی ہے، جہاں اس کی ماں مدفون ہے۔ یہ سالانہ سفر رفتہ رفتہ اس کی زندگی میں ایک ایسی تبدیلی کا ذریعہ بن جاتا ہے جو اسے اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنے ازدواجی رشتے کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ جزیرے پر گزارے گئے یہ چند دن اس کے لیے معمول کی زندگی سے عارضی فاصلے اور اپنے وجود کے ان پہلوؤں سے ملاقات کا وسیلہ بنتے ہیں جنہیں اس نے برسوں سے اپنے اندر دبا رکھا ہے۔ مارکیز اس مختصر ناول میں انسانی خواہش، وفاداری، آزادی اور تنہائی جیسے پیچیدہ موضوعات کو اپنی مخصوص داستانوی مہارت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کی نثر میں موجود تصویریت، نفسیاتی باریک بینی اور انسانی جذبات کی تہہ داری ناول کو ایک منفرد ادبی تجربہ بناتی ہے۔ انعام ندیم نے اس ناول کو اردو میں منتقل کرکے مارکیز کے قارئین کے لیے ایک اہم ادبی اضافہ کیا ہے۔ عالمی ادب اور لاطینی امریکی فکشن سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ ایک قابلِ مطالعہ ناول ہے۔
ملتے ہیں اگست میں مصنف: گیبریل گارسیا مارکیز مترجم: انعام ندیم ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ نوبیل انعام یافتہ کولمبیائی ناول نگار گیبریل گارسیا مارکیز کا آخری ناول ہے، جو ان کی وفات کے دس برس بعد 2024ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ یہ ناول مارکیز کی تخلیقی زندگی کا ایک اہم اور غیر معمولی اضافہ ہے، جس میں محبت، تنہائی، خواہش، ازدواجی زندگی اور عورت کی داخلی کیفیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول کی مرکزی کردار آنا مگدالینا باخ ہر سال اگست کے مہینے میں ایک جزیرے کا سفر کرتی ہے، جہاں اس کی ماں مدفون ہے۔ یہ سالانہ سفر رفتہ رفتہ اس کی زندگی میں ایک ایسی تبدیلی کا ذریعہ بن جاتا ہے جو اسے اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنے ازدواجی رشتے کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ جزیرے پر گزارے گئے یہ چند دن اس کے لیے معمول کی زندگی سے عارضی فاصلے اور اپنے وجود کے ان پہلوؤں سے ملاقات کا وسیلہ بنتے ہیں جنہیں اس نے برسوں سے اپنے اندر دبا رکھا ہے۔ مارکیز اس مختصر ناول میں انسانی خواہش، وفاداری، آزادی اور تنہائی جیسے پیچیدہ موضوعات کو اپنی مخصوص داستانوی مہارت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کی نثر میں موجود تصویریت، نفسیاتی باریک بینی اور انسانی جذبات کی تہہ داری ناول کو ایک منفرد ادبی تجربہ بناتی ہے۔ انعام ندیم نے اس ناول کو اردو میں منتقل کرکے مارکیز کے قارئین کے لیے ایک اہم ادبی اضافہ کیا ہے۔ عالمی ادب اور لاطینی امریکی فکشن سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے ’’ملتے ہیں اگست میں‘‘ ایک قابلِ مطالعہ ناول ہے۔