Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
Seller: Arshia Publication
| ISBN: | 93-6691-082-3 |
|---|---|
| Author: | Nasir Abbas Nayyar |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2026 |
| Genre: | Literary Fiction |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
"Mera Daghistan e Jadeed میرا داغستانِ جدید معروف نقاد، دانشور اور ادیب ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی ایک منفرد اور تخلیقی نوعیت کی کتاب ہے، جو عظیم شاعر اور ادیب رسول حمزاتوف اور اُن کی شہرۂ آفاق کتاب “میرا داغستان” سے ایک فکری اور تخلیقی مکالمہ قائم کرتی ہے۔ یہ کتاب روایتی تنقید یا سوانح نگاری کے بجائے ایک ایسی ادبی تخلیق ہے جس میں یادداشت، تخیّل، ادب اور تہذیبی شعور ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے اس کتاب میں رسول حمزاتوف سے متعلق خیالی اور تخلیقی یادداشتوں کو نہایت دلنشیں اور ادبی انداز میں پیش کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف ایک خیالی دنیا میں رسول حمزاتوف کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوں، اُن کے زمانے، فکر، تہذیب اور ادبی رویّوں کو اپنے داخلی تجربے کے ذریعے دوبارہ دریافت کر رہے ہوں۔ کتاب میں حقیقت اور تخیّل کی سرحدیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ تصنیف ایک منفرد فکشنل تجربے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کتاب کا اسلوب نہایت شگفتہ، فکری اور جمالیاتی ہے، جس میں ادب، یادداشت، تہذیب اور انسانی احساسات کی گہری آمیزش نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے رسول حمزاتوف کے ادبی اور تہذیبی اثرات کو ایک نئے اور تخلیقی زاویے سے پیش کیا ہے، جو اردو قاری کے لیے ایک منفرد تجربہ بن جاتا ہے۔ رسول حمزاتوف، “میرا داغستان”، جدید نثر، تخلیقی یادداشتوں اور ادبی فکشن میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک نہایت دل چسپ اور قابلِ مطالعہ تصنیف ہے۔"
"Mera Daghistan e Jadeed میرا داغستانِ جدید معروف نقاد، دانشور اور ادیب ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی ایک منفرد اور تخلیقی نوعیت کی کتاب ہے، جو عظیم شاعر اور ادیب رسول حمزاتوف اور اُن کی شہرۂ آفاق کتاب “میرا داغستان” سے ایک فکری اور تخلیقی مکالمہ قائم کرتی ہے۔ یہ کتاب روایتی تنقید یا سوانح نگاری کے بجائے ایک ایسی ادبی تخلیق ہے جس میں یادداشت، تخیّل، ادب اور تہذیبی شعور ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے اس کتاب میں رسول حمزاتوف سے متعلق خیالی اور تخلیقی یادداشتوں کو نہایت دلنشیں اور ادبی انداز میں پیش کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف ایک خیالی دنیا میں رسول حمزاتوف کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوں، اُن کے زمانے، فکر، تہذیب اور ادبی رویّوں کو اپنے داخلی تجربے کے ذریعے دوبارہ دریافت کر رہے ہوں۔ کتاب میں حقیقت اور تخیّل کی سرحدیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ تصنیف ایک منفرد فکشنل تجربے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کتاب کا اسلوب نہایت شگفتہ، فکری اور جمالیاتی ہے، جس میں ادب، یادداشت، تہذیب اور انسانی احساسات کی گہری آمیزش نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے رسول حمزاتوف کے ادبی اور تہذیبی اثرات کو ایک نئے اور تخلیقی زاویے سے پیش کیا ہے، جو اردو قاری کے لیے ایک منفرد تجربہ بن جاتا ہے۔ رسول حمزاتوف، “میرا داغستان”، جدید نثر، تخلیقی یادداشتوں اور ادبی فکشن میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک نہایت دل چسپ اور قابلِ مطالعہ تصنیف ہے۔"