Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
Front cover · 1 of 2
Seller: Beacon Literary
| Item Weight: | 321 Grams |
|---|---|
| ISBN: | 978-93-6691-327-8 |
| Author: | Ali Imam Naqvi |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Beacon Literary |
| Pages: | 154 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2024 |
| Genre: | Literary Fiction |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
’بساط‘ علی امام نقوی کا ایک اہم سیاسی و سماجی ناول ہے جس میں کشمیر کے پیچیدہ سیاسی حالات کو عام انسان کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے دیکھا گیا ہے۔ یہ محض سیاسی کشمکش یا واقعات کی روداد نہیں، بلکہ اس کشمکش کے درمیان زندگی بسر کرنے والے انسان کے خوف، بے یقینی، محرومی اور بے بسی کی داستان بھی ہے۔ ناول میں کشمیر کا سیاسی بحران ایک ایسے پس منظر کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں اقتدار، سیاست، تشدد اور مفادات کی کشمکش کے درمیان فرد کی حیثیت مسلسل متزلزل ہوتی رہتی ہے۔ بڑی سیاسی طاقتوں کی اپنی بساط ہے، اپنے مفادات ہیں اور اپنے مہرے؛ مگر اس بساط پر سب سے زیادہ قیمت عموماً وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس نہ اقتدار ہے اور نہ اپنے حالات طے کرنے کا اختیار۔ علی امام نقوی نے سیاسی صورتِ حال کو محض نعروں یا نظریاتی موقف کے ذریعے بیان کرنے کے بجائے اس کے انسانی مضمرات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اسی لیے ’بساط‘ میں کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی علامت بن جاتا ہے جہاں تاریخ، سیاست اور تشدد عام زندگی کے اندر تک سرایت کر چکے ہیں۔ ناول کی معنویت اس بات میں بھی ہے کہ یہ قاری کو سیاسی تنازعات کے رسمی بیانیے سے آگے لے جاکر اس سوال سے دوچار کرتا ہے کہ طاقت کی اس کشمکش میں انسان کہاں کھڑا ہے اور اس کی زندگی کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔ ’بساط‘ اسی سوال کو اپنی داستانی ساخت اور انسانی کرداروں کے وسیلے سے سامنے لاتا ہے۔ علی امام نقوی کے فکشن میں سماجی حقیقت اور سیاسی شعور کے باہمی رشتے کو سمجھنے کے لیے ’بساط‘ ایک قابلِ توجہ ناول ہے۔
’بساط‘ علی امام نقوی کا ایک اہم سیاسی و سماجی ناول ہے جس میں کشمیر کے پیچیدہ سیاسی حالات کو عام انسان کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے دیکھا گیا ہے۔ یہ محض سیاسی کشمکش یا واقعات کی روداد نہیں، بلکہ اس کشمکش کے درمیان زندگی بسر کرنے والے انسان کے خوف، بے یقینی، محرومی اور بے بسی کی داستان بھی ہے۔ ناول میں کشمیر کا سیاسی بحران ایک ایسے پس منظر کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں اقتدار، سیاست، تشدد اور مفادات کی کشمکش کے درمیان فرد کی حیثیت مسلسل متزلزل ہوتی رہتی ہے۔ بڑی سیاسی طاقتوں کی اپنی بساط ہے، اپنے مفادات ہیں اور اپنے مہرے؛ مگر اس بساط پر سب سے زیادہ قیمت عموماً وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس نہ اقتدار ہے اور نہ اپنے حالات طے کرنے کا اختیار۔ علی امام نقوی نے سیاسی صورتِ حال کو محض نعروں یا نظریاتی موقف کے ذریعے بیان کرنے کے بجائے اس کے انسانی مضمرات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اسی لیے ’بساط‘ میں کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی علامت بن جاتا ہے جہاں تاریخ، سیاست اور تشدد عام زندگی کے اندر تک سرایت کر چکے ہیں۔ ناول کی معنویت اس بات میں بھی ہے کہ یہ قاری کو سیاسی تنازعات کے رسمی بیانیے سے آگے لے جاکر اس سوال سے دوچار کرتا ہے کہ طاقت کی اس کشمکش میں انسان کہاں کھڑا ہے اور اس کی زندگی کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔ ’بساط‘ اسی سوال کو اپنی داستانی ساخت اور انسانی کرداروں کے وسیلے سے سامنے لاتا ہے۔ علی امام نقوی کے فکشن میں سماجی حقیقت اور سیاسی شعور کے باہمی رشتے کو سمجھنے کے لیے ’بساط‘ ایک قابلِ توجہ ناول ہے۔