Aawara Bagule
Fatima Hasan₹299
Seller: Arshia Publication
| ISBN: | 81-19533--79-8 |
|---|---|
| Author: | Kishwar Naheed |
| Language: | Urdu |
| Publisher: | Arshia Publication |
| Pages: | 300 |
| Book type: | Paperback |
| Publishing year: | 2026 |
| Genre: | Literary Fiction |
| Return Policy: | 14 days, replacement only |
"Aurat : Zaban e Khalk Se Zaban E Haal Tak عورت : زبانِ خلق سے زبانِ حال تک معروف شاعرہ، ادیبہ اور فیمینسٹ دانشور کشور ناہید کی ایک اہم فکری اور سماجی کتاب ہے، جس میں عورت کی زندگی، اُس کے سماجی وجود، داخلی احساسات اور معاشرتی رویّوں کا نہایت گہرے اور بصیرت افروز انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کتاب عورت سے متعلق اُن تصورات، رویّوں اور بیانیوں کو موضوع بناتی ہے جو صدیوں سے معاشرے میں رائج ہیں۔ کشور ناہید نے اس کتاب میں عورت کی آواز کو محض ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک پورے سماجی اور تہذیبی تجربے کے طور پر پیش کیا ہے۔ کتاب میں عورت کے مسائل، صنفی امتیاز، سماجی جبر، تہذیبی منافقت، زبان اور شناخت جیسے موضوعات پر نہایت بے باک اور فکر انگیز گفتگو کی گئی ہے۔ مصنفہ یہ دکھاتی ہیں کہ عورت کی “زبانِ خلق” یعنی معاشرے کی بنائی ہوئی شناخت اور “زبانِ حال” یعنی اُس کے حقیقی داخلی تجربے کے درمیان کتنا گہرا فرق موجود ہے۔ کتاب کا اسلوب ادبی، شگفتہ اور نہایت مؤثر ہے۔ کشور ناہید اپنی مخصوص بے باکی، فکری شدت اور انسانی حساسیت کے ساتھ عورت کے وجود اور اُس کے تجربات کو بیان کرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کتاب اردو فیمینسٹ ادب میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ فیمینزم، سماجی علوم، عورتوں کے مسائل اور معاصر فکری مباحث میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک نہایت اہم اور قابلِ مطالعہ تصنیف ہے۔"
"Aurat : Zaban e Khalk Se Zaban E Haal Tak عورت : زبانِ خلق سے زبانِ حال تک معروف شاعرہ، ادیبہ اور فیمینسٹ دانشور کشور ناہید کی ایک اہم فکری اور سماجی کتاب ہے، جس میں عورت کی زندگی، اُس کے سماجی وجود، داخلی احساسات اور معاشرتی رویّوں کا نہایت گہرے اور بصیرت افروز انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کتاب عورت سے متعلق اُن تصورات، رویّوں اور بیانیوں کو موضوع بناتی ہے جو صدیوں سے معاشرے میں رائج ہیں۔ کشور ناہید نے اس کتاب میں عورت کی آواز کو محض ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک پورے سماجی اور تہذیبی تجربے کے طور پر پیش کیا ہے۔ کتاب میں عورت کے مسائل، صنفی امتیاز، سماجی جبر، تہذیبی منافقت، زبان اور شناخت جیسے موضوعات پر نہایت بے باک اور فکر انگیز گفتگو کی گئی ہے۔ مصنفہ یہ دکھاتی ہیں کہ عورت کی “زبانِ خلق” یعنی معاشرے کی بنائی ہوئی شناخت اور “زبانِ حال” یعنی اُس کے حقیقی داخلی تجربے کے درمیان کتنا گہرا فرق موجود ہے۔ کتاب کا اسلوب ادبی، شگفتہ اور نہایت مؤثر ہے۔ کشور ناہید اپنی مخصوص بے باکی، فکری شدت اور انسانی حساسیت کے ساتھ عورت کے وجود اور اُس کے تجربات کو بیان کرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کتاب اردو فیمینسٹ ادب میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ فیمینزم، سماجی علوم، عورتوں کے مسائل اور معاصر فکری مباحث میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک نہایت اہم اور قابلِ مطالعہ تصنیف ہے۔"